وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ناقص حج انتظامات، کرپشن اور سعودی حکومت کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ (!) بیان دینے پر وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی سے وزارت مذہبی امور کا چارج واپس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ سیکرٹری مذہبی امور آغا قزلباش اور جوائنٹ سیکرٹری حج راجہ آفتاب کو معطل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں کر دیا جائیگا۔
وزیراعظم ہاؤس کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز وفاقی وزیر مذہبی امور کی طرف سے سعودی حکومت سے ہرجانہ طلب کرنے کے غیر ذمہ دارانہ بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر سے تحریری طور پر وضاحت طلب کر لی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم جو پہلے ہی قائمقام ڈائریکٹر جنرل حج سید سلطان شاہ کو حج کے ناقص انتظامات پر وطن واپس طلب کر چکے ہیں، نے حج انتظامات ناقص ہونے، مہنگی عمارتیں حاصل کرنے اور وزارتی امور پر کنٹرول رکھنے میں ناکامی پر وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کی وزارت تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور حامد سعید کاظمی کی وطن واپسی پر ان سے مذہبی امور کا چارج واپس لے لیا جائےگا اور یہ وزارت کسی اچھی شہرت کے حامل وفاقی وزیر کو دی جائیگی۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم سیکرٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے وزیراعظم کو تجویز دی ہے کہ ایف آئی اے کی انکوائری کو شفاف بنانے کیلئے سیکرٹری مذہبی امور آغا قزلباش اور جوائنٹ سیکرٹری حج راجہ آفتاب سمیت دیگر ذمہ دار افسران کو فوری طور پر معطل کردیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں وزیراعظم پیر تک اپنی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی سے حتمی مشاورت کے بعد وزارت مذہبی امور کے افسران کو معطل کرنے کا حتمی فیصلہ کرینگے۔
دریں اثناء اعظم سواتی کو بھی یہ گناہ ناگوار گذرا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ حاجیوں کو لوٹنے کے ذمہ دار وفاقی وزیر مذہبی امور ہی ہیں۔
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ ہزاروں حاجیوں کو لوٹنے اور ناقص انتظامات کے ذمہ دار وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو برطرف کیا جائے۔
مانسہرہ میں نجی تعلیمی اداروں کی تنظیم کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی نے کہا کہ حج اسکینڈل میں کوئی بھی افسر وزیر حج کی مرضی کے بغیر بدعنوانی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
ادھر پاکستان کے حکام نے سعودیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے حج کے ناقص انتظامات کے حوالے سے سعودی حکام کی ناقص کارکردگی پر ہرجانے کے دعوے سے دستبرداری کا اعلان بھی کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ "ہرجانہ حجاج کے لئے انتظامات کرنے والا ادارہ موسسیٰ ادا کرےگا"۔
دفتر خارجہ نے اعتماد میں لئے بغیر سعودی حکومت سے ہر جانے کا دعویٰ کرنے کے وزارت مذہبی امور کے اقدام پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے کہا ہے کہ پاکستانی حجاج کی دلجوئی کیلئے کچھ رقم حج انتظامات کرنے والا ادارہ موسسیٰ فراہم کرےگا۔
انھوں نے کہا کہ حجاج کیلئے ہر جانے کے دعوے سے سعودی حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری جانب موسسیٰ جنوبی ایشیاء کے چیئرمین عدنان نے وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستانی حجاج کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ ٹھیکیداروں نے موسسیٰ کو غلط معلومات فراہم کیں، ٹھیکیداروں نے وقت پر اپنا کام مکمل نہیں کیا جس سے حجاج کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
مؤسسی کے بیان کا سعید کاظمی کے خلاف سرکار پاکستان کے اقدام کے ساتھ تقابل کرایا جائے تو لگتا ہے کہ گویا سعید کاظمی بہت زیاده غلط نہیں کہہ رہے ہیں لیکن سعودی خفا ہوجائیں تو طوفان آنے کا خدشہ ہے! کم از کم سرکار پاکستان کے اقدامات سے تو ایسا ہی لگتا ہے۔
یاد رہے کہ حامد سعید کاظمی کو چند ماہ قبل قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا
.......
/110